بسم اللہ الرحمن الرحیم 
Let's multiply GOODNESS 

 

کرانے کی دکان پر ایک بزرگ جب اپنے سامان کی ادائیگی کرنے لگے تو دکان دار نے کہا کہ آپ کا بِل ساٹھ روپئے ہے اور کل آپ کے بیٹے نے تیس روپئے کا ادھار خریدا تھا۔ انہوں نے کہا میرا بل مجھ سے لیجیے اور بیٹے کا بیٹے سے۔ آپ کے بیٹے نے کہا تھا کہ پیسے آپ سے لے لوں۔ سُنتے ہی انہوں نے اپنا ہاتھ ماتھے پر مارا اور کچھ بڑبڑائے جو میں نہیں سُن سکا۔
ان کے گھر کے حالات کا علم تو نہیں ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بیٹوں کو اپنے والد کا سہارا بننا چاہیے۔ اگر یہ نہ کرسکیں تو کم از کم اپنا بوجھ ان پر نہ ڈالیں۔


ڈاکٹر عبدالماجد انصاری، 
ڈائریکٹر گُڈ کیریکٹر کمپنی