بسم اللہ الرحمن الرحیم
Let's multiply GOODNESS
ایک نوجوان نے یہ پوچھا کہ کامیابی کا راستہ کیا ہے؟ جواب دیا گیا ایمانداری۔ کہنے لگا کہ مگر آج کل کچھ افراد جھوٹ بول کر اور دھوکہ دے کر خوب پیسے کماتے ہیں اور معاشرے میں انہیں کامیاب مانا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف سچ بولنے والا ایمان دار انسان تو غریب رہ جاتا ہے اور سماج میں اس کی کوئی قدر و منزلت نہیں رہتی ہے۔
عرض یہ کیا گیا کہ یہ سوچ صد فی صد غلط ہے۔ کامیابی صرف اور صرف ایمانداری میں ہے اور بے ایمانی میں صرف اور صرف ناکامی ہے۔ بے ایمانی کرکے کوئی فرد اگر دولت کما بھی لے تو پہلی بات یہ کہ دولت حاصل کرلینا کامیابی کی نشانی نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایسی کامیابی ہمیشہ وقتی ثابت ہوتی ہے اور تیسری اہم بات یہ ہے کہ بے ایمانی کے راستے میں صرف اضطراب اور بے سکونی ہے۔
ڈاکٹر عبدالماجد انصاری،
ڈائریکٹر گُڈ کیریکٹر کمپنی