بسم اللہ الرحمن الرحیم
Let's multiply Goodness
میں ایک مجمعے میں موجود تھا۔ اچانک کسی نے ایک شخص کو آواز دی، اے کُبڑے۔ مجمعے میں موجود ایک عالمِ دین نے بروقت انہیں یہ کہہ کر ٹوکا کہ آپ اس طرح کسی کو ذلیل نہیں کرسکتے۔ یہ گُناہ عظیم ہے۔ انہوں نے آگے فرمایا کہ کسی انسان کی بناوٹ اس کی خود کی نہیں بلکہ اللہ کی مصلحت کے تحت ہے اور اس کی مصلحت وہی جانے۔ ہم اگر کسی کی جسمانی بناوٹ جیسے قد، رنگ، آواز، ناک، آنکھ، ہونٹ، دانت، بال، چال یا چہرے وغیرہ پر طنز، اعتراض، مذاق یا ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ کی بنائی ہوئی چیز پر اپنی گھٹیا ترین رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ اور اللہ کی بنائی ہوئی کسی چیز پر طنز، اعتراض، مذاق یا ناراضگی کا اظہار کرنا گناہ عظیم ہے۔ یہ خود کو بڑی مصیبت میں ڈالنے جیسا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ہم خود ہی اس کمی یا نقص کا شکار ہو جائیں۔ ایسا سوچتے اور بولتے وقت بہت زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر عبدالماجد انصاری
ڈائریکٹر گُڈ کیریکٹر کمپنی